میں ایک سپر موم نہیں ہوں لیکن مجھے بننا پڑتا ہے۔صرف ایک آٹزم بچے کی ما ں ہونے کی وجہ سے میں سپرموم نہیں بن گئی ہوں ،برائے مہربانی مجھے کمزور رہنے دیں، مجھے چیخنے چلانے اور غلطیاں کرنے دیں، مجھے بس ماں رہنے دیں، ایک بیوی، ایک عورت لیکن کوئی ما وراء مخلوق نہیں۔
جس دن یہ تشخیص ہوئی کہ میرا بیٹا ویدنت آٹزم کا شکار ہے، زندگی نے مجھے ذمہ داریوں کا لباداتھما دیا اور کہا اب جاؤ مقابلہ کرو اور اس معاملہ میں رکناکبھی مت ۔ پر کبھی ایسے دن آتے ہیں جب میں ہلکان ہو چکی ہوتی ہوں اور گھٹنے ٹیک کر بس یہ دعا کرنا چاہتی ہوں کہ آئندہ کبھی بھی کسی ماں کو اپنے بچے کے لئے اس طرح دنیا سے مقابلہ نہ کرنا پڑے اور دنیا سے بھی مجھے یہ امید کہ وہ ایسے بچے کے لئے جسے ایسے چیلنج درپیش ہوں ذرا حساس ہو جائے

ایک دفعہ ایک بس ڈرائیور نے میرے بچے کے ہاتھ سے سٹرا (نلکی)چھین لی تو میں نے فقط یہ کہا” ذرا توجہ دیں، یہ میرے بچے کا ایک حساس کھلونا ہے۔ اس بچے کو ایسی بس میں جہاں بہت سے شور مچاتے ہوئے بچے کا ہجوم ہو، یہ کھلونا اسے پر سکون رکھنے میں مدد دیتا ہے”۔ کسی دفعہ میں اونچی آواز میں چیخنا چلانا نہیں چاہتی ہوں تو اس سے کہتی ہو کہ وہ آٹزم کے بارے میں کچھ آگاہی حاصل کرے۔
بجائے اس کے کہ میں کسی نوعمر بچے کہ یہ بتاؤں کہ میرے بچے کو آٹزم ہے تو وہ میرے بچے کے ساتھ ہمدردی نہ جتائے، میں چاہتی ہوں کہ سکول اور سوسائٹی اسے بتائے اور بہتر طریقے سے سمجھائے کہ آٹزم کی اپنی طاقت بھی ہے۔ میںیہ سمجھاتے سمجھاتے تھک چکی ہو کہ آٹزم کا مطلب دنیا کا خاتمہ نہیں ہے، یہ ایک الگ دنیا ہے۔ نہیں میں ایک ایک سپر موم نہیں ہوں ۔میں اکثرو بیشتر خود کو شکستہ محسوس کرتی ہوں۔
بعض دفعہ میں یہ امید کرتی ہوں کہ لابی میں منتظر ماں زیادہ حساس ہو۔ میرا بچہ اس عورت کی ننھی بچی کے ساتھ ذرا سی قربت چاہتا ہے۔ وہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ، اسے خوفزدہ نہیں کرے گا۔ برائے مہربانی وہ اپنی بچی سے یہ نہ پوچھے کہ وہ اس بات سے خوش ہے اور اس کو دوسرے الفاظ میں یہ بتانے کی کوشش نہ کرے کہ میرے بیٹے کی طرف سے دوستی کی کوشش اس بچی کے لئے نامناسب ہو سکتی ہے۔ وہ اسے یہ سیکھنے دے کہ مختلف طرح کے بچوں سے کیسے برتا ؤ کیا جاتا ہے۔ یہ سیکھنے دے کہ دوسروں کو کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ میں ڈائس پر کھڑے ہو کر اسے شمولیت کی اہمیت پر لیکچر نہیں دینا چاہتی ۔ کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب میں ایسے لوگوں سے بھڑنا نہیں چاہتی جب کوئی مجھے یہ باور کرانا چاہے کہ سوسائٹی ابھی تک کسی ایسے بچے کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں جسے آٹزم ہو۔
بعض دفعہ جب حالات میرے قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں تو میرا دل چاہتا ہے کہ میں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی اور طرف نکل جاؤں۔ مجھے خود میں اس کمزوری کی شدید ضرورت ہے۔ مجھے اپنی ذات میں ایسی دراڑیں چاہئیں جن سے میرا دکھ اور غم باہرچھلک سکے۔
بعض دفعہ مجھے ایسی ماؤں سے حسد محسوس ہوتا ہے جو اپنے بچوں کو ساکر کی پریکٹس، ٹیوشن، تیراکی کے اسباق یا بول چال کی کلاسز میں لے کرجاتی ہیں۔ کبھی کبھار میں بھی کسی کنسرٹ، ، فلم، میلے یا پارٹیوں میں حصہ لینا چاہتی ہوں، دیر تک باہر رہناچاہتی ہوں اور اپنے اس سخت حبس زدہ روزو شب سے فرار حاصل کرنا چاہتی ہوں جس نے میری زندگی کو گھنا دیا ہے۔
کچھ دن ایسے بھی آتے ہیں جب تمام علاج معالجے ناکام ہو جائیں تو میں امید کا دامن چھوڑ بیٹھتی ہوں اور اپنی تمام خوش فہمیوں کو ترک کر کے رونا چاہتی ہو۔ صرف اس خوف سے رونا اور چلانا کہ اب حالات کبھی بہتر نہیں ہو سکتے۔
کبھی کبھار میں کوشش ترک کر دینا چاہتی ہوں کیونکہ میں جتنا بھی زور لگا لوں کچھ بھی بہتر ہوتا نظر نہیں آتا۔بعض دفعہ میں یہ بھی شکائت کرنا چاہتی ہوں کہ یہ انصاف نہیں ہے۔ یہ میں ہی کیوں؟ ہم ہی کیوں ، وہ ہی کیوں؟
جب میں اپنے بچے کو تھامتے تھامتے نڈھال ہو جاؤں تو کوئی مجھے وقتی طور سہارا دے دے۔ میرے اندر بعض وقت یہ کمزوری بہت طاقت پکڑ لیتی ہے۔ ایک سپر موم کا کردار بہت بھاری ہے جسے سہارنا کٹھن ہے۔ میری خواہش ہے کہ اگر آپ کے بچے کو آٹزم ہے تو ایک ایسی دنیا ہو جہاں آپ کو فائٹٹربننے کی ضرورت نہ پڑے، ایک سپر موم، اور مستقل وکالت کی ضرورت نہ ہو۔ اگر کوئی جنگجو ہو اور اس کے پاس سپر پاور ہو تو وہ میرا بچہ ہو، میں نہیں۔ وہ ایک سپر کڈ ہے۔
…………………………………………………………………………………………………………

As for me, I’m a mom of an adorable 7 yr old son who happens to be on the Autism Spectrum. I’ve been a software developer for as long as I was part of the workforce but now I work for my son and I’m loving it so far, though I miss seeing my bank balance go up fortnightly
For detail, please visit
http://www.braindroplets.com/